You are here:-, Faiz Ahmad Faiz, faiz ahmad faiz Ghazal, famous ghazal-تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں

تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں

تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں
حدیثِ یار کے عنواں نکھرنے لگتے ہیں
تو ہر حریم میں گیسو سنورنے لگتے ہیں
ہر اجنبی ہمیں محرم دکھائی دیتا ہے
جو اب بھی تیری گلی سے گزرنے لگتے ہیں
صبا سے کرتے ہیں غربت نصیب ذکرِ وطن
تو چشمِ صبح میں آنسو اُبھرنے لگتے ہیں
وہ جب بھی کرتے ہیں اس نطق و لب کی بخیہ گری
فضا میں اور بھی نغمے بکھرنے لگتے ہیں
درِ قفس پہ اندھیرے کی مہر لگتی ہے
تو فیض دل میں ستارے اترنے لگتے ہیں

فیض احمد فیض

By | 2017-07-30T03:08:33+00:00 July 30th, 2017|Categories: editor selection, Faiz Ahmad Faiz, faiz ahmad faiz Ghazal, famous ghazal|0 Comments

About the Author:

Leave A Comment