You are here:--ھمارے زمانے کے سب سے بڑے شاعر کو آج الوداع کہا گیا :اخلاق احمد

ھمارے زمانے کے سب سے بڑے شاعر کو آج الوداع کہا گیا :اخلاق احمد

ھمارے زمانے کے سب سے بڑے شاعر کو آج الوداع کہا گیا – رسا چغتائی ، یعنی رسا بھائی کو –
کورنگی کراچی کی ایک مسجد کے باہر بنے احاطے میں وہ سانولا درویش ، وہ بلا کا غزل گو آنکھیں موندے لیٹا تھا اور اس کے گرد اس کو چاہنے والوں کا چھوٹا سا اداس ہجوم تھا – خواجہ رضی حیدر ، اجمل سراج ، صابر ظفر ، مبین مرزا ، صابر وسیم، فہیم شناس کاظمی ، اختر سعیدی اور بہت سے دوست ، خاندان کے لوگ – رسا بھائی اب پیوند خاک ھو چکے ھیں لیکن کوئی مہیب اداسی ھے جس نے دیر سے دل کو جکڑ رکھا ھے اور اس کا سبب سمجھ میں نہیں آتا – شعر اور شعریات میرا شعبہ نہیں ، میں صرف ایک عام قاری رھا ھوں – شعر اچھا لگا تو اندر ھی اندر جھوم لئے ، نہیں لگا تو بے مزہ نہ ھوئے –
یاد آتا ھے ، رسا بھائی سے ملاقات سے بھی پہلے ان کے کچھ شعروں سے ملاقات ھو چکی تھی اور وہ جو اندر ھی اندر جھومنا تھا وہ ایک وحشت خیز رقص جیسا کچھ بنتا جاتا تھا –

صرف مانع تھی حیا بند _ قبا کھلنے تک
پھر تو وہ جان _حیا ایسا کھلا، ایسا کھلا

۔۔۔اور اسی طرح ۔۔۔۔

تیرے آنے کا انتظار رھا
عمر بھر موسم_بہار رھا

پھر سب رنگ کے حجرے میں ان سے ملاقات ھوئی تو ان کی سادگی ، درویشی ، شہرت پرستی اور خود پسندی کے اس نفرت انگیز دور میں شہرت سے ان کی مثالی بے نیازی نے ھمیشہ کے لئے ان کا اسیر کر دیا –
سب رنگ کی محفل میں بھی وہ بہت اصرار کے بعد ، بہت مشکل سے شعر سناتے تھے – مگر جب سناتے تھے تو جیسے وقت تھم جاتا تھا ، زمین آسمان کی گردش تھوڑی دیر کو رکی رھتی تھی-

آنا یار _ جانی کا
کھلنا رات کی رانی کا
گرمی اس کے ہاتھوں کی
چشمہ ٹھنڈے پانی کا
باھر ایک تماشا ھے
اندر کی حیرانی کا
آخر میرا کیا ھو گا
کیا ھو گا ویرانی کا
ساری عمر مشقت کی
خبط کیا سلطانی کا
کام لیا میں حکمت سے
عذر کیا نادانی کا
جل کٹیا میں بیٹھا ھے
لیکھک امر کہانی کا

وہ دن یاد آتے ھیں جب وہ شعر سنایا کرتے تھے اوراس چھوٹے سے کمرے میں ، دوستوں سے بھرے اس حجرے کے سناٹے میں ان کی آواز گونجتی تھی –

خواب اس کے ھیں جو چرا لے جائے
نیند اس کی ھے جو اڑا لے جائے
زلف اس کی ھے جو اسے چھو لے
بات اس کی ھے جو بنا لے جائے
تیغ اس کی ھے، شاخ_گل اس کی
جو اسے کھینچتا ھوا لے جائے
اس سے کہنا کہ کیا نہیں اس پاس
بھر بھی درویش کی دعا لے جائے
زخم ھو تو کوئی دہائی دے
تیر ھو تو کوئی اٹھا لے جائے
لو دئیے کی نگاہ میں رکھنا
جانے کس سمت راستا لے جائے
خواب ایسا ، کہ دیکھتے رھئے
یاد ایسی ، کہ حافظہ لے جائے
خاک ھونا ھی جب مقدر ھے
اب جہاں بخت _ نا رسا لے جائے

جسے سمجھا نہیں شاید کسی نے
میں اپنے عہد کا وہ سانحہ ھوں
نہ جانے کیوں یہ سانسیں چل رھی ھیں
میں اپنی زندگی تو جی چکا ھوں
جنوں کیسا ، کہاں کا عشق صاحب
میں اپنے آپ ھی میں مبتلا ھوں

تیرے آنے کا انتظار رھا
عمر بھر موسم _ بہار رھا
پا بہ زنجیر زلف _ یار رھی
دل اسیر _ خیال _ یار رھا
ساتھ اپنے غموں کی دھوپ رھی
ساتھ اک سرو _ سایہ دار رھا
تجھ سے ملنے کو بے قرار تھا دل
تجھ سے مل کر بھی بے قرار رھا

سو رسا بھائی ھیں کہ یاد آئے جاتے ھیں اور اداسی ھے کہ بڑھتی ھی جاتی ھے۔۔۔۔۔۔

By | 2018-01-06T14:07:28+00:00 January 6th, 2018|Categories: Mazameen|0 Comments

About the Author:

Leave A Comment