You are here:-, Ghalib, Ghazal-نقش فریادی ہےکس کی شوخئ تحریر کا

نقش فریادی ہےکس کی شوخئ تحریر کا

نقش فریادی ہے کس کی شوخیٴ تحریر کا؟

کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

کاؤ کاوِ سخت جانیہائے تنہائی، نہ پوچھ

صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شِیر کا

جذبہٴ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے

سینہٴ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے

مدعا عنقا ہے اپنے عالَمِ تقریر کا

بس کہ ہوں غالب اسیری میں بھی آتش زیرپا

موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا

اسداللہ خان غالب

By | 2017-08-02T15:32:02+00:00 July 31st, 2017|Categories: famous ghazal, Ghalib, Ghazal|Tags: |0 Comments

About the Author:

Leave A Comment