You are here:-, faiz ahmad faiz Ghazal, famous ghazal-نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا

نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا

نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا
جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تنِ داغ داغ لُٹا دیا

مرے چارہ گرکو نوید ہو، صفِ دشمناں کو خبر کرو
وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا

کرو کج جبیں پہ سرِ کفن ، مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرورِ عشق کا بانکپن ، پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا

اُ دھر ایک حرف کے کُشتنی ، یہاں لاکھ عذر تھا گفتنی
جو کہا تو ہنس کے اُڑا دیا ، جو لکھا تو پڑھ کے مٹا دیا

جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے
رہِ  یار  ہم  نے  قدم  قدم  تجھے  یاد گار  بنا  دیا

فیض احمد فیض

By | 2017-07-30T07:20:04+00:00 July 30th, 2017|Categories: Faiz Ahmad Faiz, faiz ahmad faiz Ghazal, famous ghazal|Tags: |0 Comments

About the Author:

Leave A Comment