You are here:-, Ahmad Faraz Ghazal-چلے تھے یار بڑے زعم میں ہوا کی طرح

چلے تھے یار بڑے زعم میں ہوا کی طرح

غزل
چلے تھے  یار  بڑے  زعم میں ہوا  کی  طرح
پلٹ کے دیکھا تو بیٹھے ہیں نقشِ پا کی طرح
مجھے وفا کی طلب ہے مگر ہر اک سے نہیں
کوئی ملے مگر اس یارِ بے   وفا  کی  طرح
مرے وجود کا صحرا ہے منتظر کب سے
کبھی تو آ جرسِ غنچہ کی صدا کی طرح
ٹھہر گئی ہے محبّت کہاں کہ مدت سے
نہ ابتدا کی طرح ہے نہ انتہا کی طرح
وہ اجنبی تھا تو کیوں مجھ سے پھیر کر آنکھیں
گزر  گیا  کسی  دیرینہ  آشنا  کی  طرح
فرازؔ کس کے ستم کا گِلہ کریں کس سے
کہ بے نیاز ہوئی خلق بھی خدا کی طرح

احمد فراز

By | 2017-08-28T16:05:13+00:00 August 27th, 2017|Categories: Ahmad Faraz, Ahmad Faraz Ghazal|Tags: , |0 Comments

About the Author:

Leave A Comment