You are here:-famous nazam

اے عشق ہمیں برباد نہ کر

اے عشق ہمیں برباد نہ کر اے عشق نہ چھیڑ آ آ کے ہمیں، ہم بھولے ہوؤں کو یاد نہ کر پہلے ہی بہت ناشاد ہیں ہم، تُو اور ہمیں ناشاد نہ کر قسمت کا ستم ہی کم نہیں کچھ، یہ تازہ ستم ایجاد نہ کر یوں ظلم نہ کر، بیداد نہ کر اے عشق

By | 2017-08-31T01:51:38+00:00 August 30th, 2017|Categories: Akhtar Sheerani, Akhtar Sheerani Nazm, famous nazam|Comments Off on اے عشق ہمیں برباد نہ کر

کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا

کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام کو عشق سمجھتے تھے ہم جیتے جی مصروف  رہے کچھ عشق کیا کچھ کام  کیا کام عشق کے آڑے آتا  رہا اور عشق سے کام اُلجھتا رہا پھر  آخر  تنگ آ کر  ہم  نے دونوں

By | 2017-07-30T17:01:18+00:00 July 30th, 2017|Categories: Faiz Ahmad Faiz, faiz ahmad faiz Nazam, famous nazam|Tags: |0 Comments

آج بازار میں پابجولاں چلو

آج بازار میں پابجولاں چلو چشم نم جان شوریدہ کافی نہیں تہمت عشق پوشیدہ کافی نہیں آج بازار میں پابجولاں چلو دست افشاں چلو، مست و رقصاں چلو خاکِ برسر چلو، خوں بہ داماں چلو راہ تکتا ہے سب شہر جاناں چلو حاکم شہر بھی، مجمع عام بھی تیرِ الزام بھی، سنگِ دشنام بھی صُبحِ

By | 2017-07-30T07:00:52+00:00 July 30th, 2017|Categories: Faiz Ahmad Faiz, faiz ahmad faiz Nazam, famous nazam, Uncategorized|Tags: |0 Comments

گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے

گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو کہیں تو بہرِ خدا آج ذکرِ یار چلے کبھی تو صبح ترے کنجِ لب سے ہو آغاز کبھی تو شب سرِ کاکل سے مشکبار چلے بڑا ہے درد کا رشتہ،

By | 2017-07-30T06:41:19+00:00 July 30th, 2017|Categories: Ahmad Faraz Ghazal, Faiz Ahmad Faiz, famous nazam|Tags: |0 Comments

یاد نظم فیض احمد فیض

یاد دشتِ تنہائی میں، اے جانِ جہاں، لرزاں ہیں تیری آواز کے سائے، ترے ہونٹوں کے سراب دشتِ تنہائی میں، دوری کے خس و خاک تلے کھل رہے ہیں، تیرے پہلو کے سمن اور گلاب اٹھ رہی ہے کہیں قربت سے تری سانس کی آنچ اپنی خوشبو میں سلگتی ہوئی مدھم مدھم دور۔افق پار چمکتی

By | 2017-07-30T03:06:31+00:00 July 30th, 2017|Categories: Faiz Ahmad Faiz, faiz ahmad faiz Nazam, famous nazam|Tags: |0 Comments

نثار میں تری گلیوں کے …

...نثار میں تری گلیوں کے نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے نظر چرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظمِ بست و کشاد کہ سنگ و

By | 2017-07-30T03:07:27+00:00 July 30th, 2017|Categories: Faiz Ahmad Faiz, faiz ahmad faiz Nazam, famous nazam|Tags: |0 Comments

لوح و قلم : فیض احمد فیض

لوح و قلم ہم پرورشِ لوح قلم کرتے رہیں گے جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے اسبابِ غمِ عشق بہم کرتے رہیں گے ویرانیِ دوراں پہ کرم کرتے رہیں گے ہاں تلخیِ ایام ابھی اور بڑھے گی ہاں اہلِ ستم، مشقِ ستم کرتے رہںر گے منظور یہ تلخی، یہ ستم ہم کو

By | 2017-07-30T03:09:41+00:00 July 29th, 2017|Categories: faiz ahmad faiz Famous Sher, faiz ahmad faiz Nazam, famous nazam|Tags: |1 Comment

کُتّے نظم فیض احمد فیض

کُتّے یہ گلیوں کے آوارہ بےکار کتے کہ بخشا گیا جن کو ذوقِ گدائی زمانے کی پھٹکار سرمایہ اُن کا جہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی نہ آرام شب کو ، نہ راحت سویرے غلاظت میں گھر ، نالیوں میں بسیرے جو بگڑیں تو ایک دوسرے سے لڑا دوآ ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا

By | 2017-07-30T03:10:50+00:00 July 29th, 2017|Categories: Faiz Ahmad Faiz, faiz ahmad faiz Nazam, famous nazam|Tags: |0 Comments

مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ

مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات ترا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات تری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا

By | 2017-07-30T03:11:52+00:00 July 29th, 2017|Categories: Faiz Ahmad Faiz, faiz ahmad faiz Nazam, famous nazam|Tags: |0 Comments

خدا وہ وقت نہ لائے۔۔۔۔

خدا وہ وقت نہ لائے۔۔۔۔ خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوار ہو تو سکوں کی نیند تجھے بھی حرام ہو جائے تری مسرت پیہم تمام ہو جائے تری حیات تجھے تلخ جام ہو جائے غموں میں آئینہ دل گداز ہو تیرا ہجوم یاس سے بے تاب ہو کے رہ جائے وفور درد سے سیماب

By | 2017-07-30T03:13:13+00:00 July 29th, 2017|Categories: Faiz Ahmad Faiz, faiz ahmad faiz Nazam, famous nazam|Tags: |0 Comments