You are here:-famous ghazal

یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی

غزل یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی فرازؔ  تجھ  کو  نہ  آئیں  محبتیں  کرنی یہ قرب کیا ہے کہ تو سامنے ہے اور ہمیں شمار ابھی سے جُدائی کی ساعتیں کرنی کوئی خدا ہو کے پتھر جسے بھی ہم چاہیں تمام عمر  اسی  کی  عبادتیں  کرنی سب اپنے اپنے قرینے سے

By | 2017-08-28T16:01:13+00:00 August 28th, 2017|Categories: Ahmad Faraz, Ahmad Faraz Ghazal, famous ghazal|Tags: , , |1 Comment

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں جس طرح سُوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں ڈھونڈ اُجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں غمِ دنیا بھی غمِ یار میں شامل کر لو! نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں تُو خدا ہے نہ

By | 2017-08-21T13:37:10+00:00 August 21st, 2017|Categories: Ahmad Faraz, Ahmad Faraz Famous Sher, Ahmad Faraz Ghazal, famous ghazal|Tags: |0 Comments

تم بھی خفا ہو لوگ بھی برہم ہیں دوستو

تم بھی خفا ہو لوگ بھی برہم ہیں دوستو اب ہو چلا یقیں کہ بُرے ہم ہیں دوستو کس کو ہمارے حال سے نسبت ہے کیا کہیں آنکھیں تو دشمنوں کی بھی پُر نم ہیں دوستو اپنے سوا ہمارے نہ ہونے کا غم کسے اپنی تلاش میں تو ہمیں ہم ہیں دوستو کچھ آج شام

By | 2017-08-21T10:03:15+00:00 August 21st, 2017|Categories: Ahmad Faraz, Ahmad Faraz Ghazal, famous ghazal|Tags: |0 Comments

نقش فریادی ہےکس کی شوخئ تحریر کا

نقش فریادی ہے کس کی شوخیٴ تحریر کا؟ کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا کاؤ کاوِ سخت جانیہائے تنہائی، نہ پوچھ صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شِیر کا جذبہٴ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے سینہٴ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے مدعا عنقا ہے

By | 2017-08-02T15:32:02+00:00 July 31st, 2017|Categories: famous ghazal, Ghalib, Ghazal|Tags: |0 Comments

نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا

نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تنِ داغ داغ لُٹا دیا مرے چارہ گرکو نوید ہو، صفِ دشمناں کو خبر کرو وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا کرو کج جبیں پہ سرِ کفن ، مرے قاتلوں کو گماں نہ

By | 2017-07-30T07:20:04+00:00 July 30th, 2017|Categories: Faiz Ahmad Faiz, faiz ahmad faiz Ghazal, famous ghazal|Tags: |0 Comments

کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں، کب ہات میں تیرا ہات نہیں

کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں، کب ہات میں تیرا ہات  نہیں صد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں مشکل ہے اگر حالات وہاں، دل بیچ آئیں جاں دے آئیں دل والو کوچۂ جاناں میں‌ کیا ایسے  بھی حالات  نہیں جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت

By | 2017-07-30T03:05:01+00:00 July 30th, 2017|Categories: Faiz Ahmad Faiz, faiz ahmad faiz Ghazal, famous ghazal|Tags: |1 Comment

آئے کچھ ابر، کچھ شراب آئے

آئے کچھ ابر، کچھ شراب آئے اس کے بعد آئے جو عذاب آئے (ق) بامِ مینا سے ماہتاب اُترے دستِ ساقی میں، آفتاب آئے ہر رگِ خوں میں پھر چراغاں ہو سامنے پھر وہ بے نقاب آئے عمر کے ہر ورق پہ دل کو نظر تیری مہر و وفا کے باب آئے کر رہا تھا

By | 2017-07-31T13:37:34+00:00 July 30th, 2017|Categories: Faiz Ahmad Faiz, faiz ahmad faiz Ghazal, famous ghazal|Tags: |1 Comment

دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں

دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں جیسے بچھڑے ہوئے کعبے میں صنم آتے ہیں ایک اک کر کے ہوئے جاتے ہیں تارے روشن میری منزل کی طرف تیرے قدم آتے ہیں رقصِ مے تیز کرو، ساز کی لے تیز کرو سوئے مے خانہ سفیرانِ حرم آتے ہیں کچھ ہمیں کو نہیں

By | 2017-07-30T03:07:55+00:00 July 30th, 2017|Categories: Faiz Ahmad Faiz, faiz ahmad faiz Ghazal, famous ghazal|Tags: |0 Comments

رنگ پیر اہن کا خوشبو ، زلف لہرانے کا نام

رنگ پیر اہن کا خوشبو ، زلف لہرانے کا نام موسمِ گل ہے تمہارے بام پر آنے کا نام دوستو ، اُس چشم و لب کی کچھ کہو جس کے بغیر گلستاں کی بات رنگیں ہے، نہ میخانے کا نام پھر نظر میں پھول مہکے، دل میں پھر شمعیں جلیں پھر تصور نے لیا اُس

By | 2017-07-30T03:08:14+00:00 July 30th, 2017|Categories: Faiz Ahmad Faiz, faiz ahmad faiz Ghazal, famous ghazal|Tags: |0 Comments

تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں

تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں حدیثِ یار کے عنواں نکھرنے لگتے ہیں تو ہر حریم میں گیسو سنورنے لگتے ہیں ہر اجنبی ہمیں محرم دکھائی دیتا ہے جو اب بھی تیری گلی سے گزرنے لگتے ہیں صبا سے کرتے ہیں غربت نصیب ذکرِ وطن تو

By | 2017-07-30T03:08:33+00:00 July 30th, 2017|Categories: editor selection, Faiz Ahmad Faiz, faiz ahmad faiz Ghazal, famous ghazal|0 Comments