You are here:-Ahmad Faraz

یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی

غزل یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی فرازؔ  تجھ  کو  نہ  آئیں  محبتیں  کرنی یہ قرب کیا ہے کہ تو سامنے ہے اور ہمیں شمار ابھی سے جُدائی کی ساعتیں کرنی کوئی خدا ہو کے پتھر جسے بھی ہم چاہیں تمام عمر  اسی  کی  عبادتیں  کرنی سب اپنے اپنے قرینے سے

By | 2017-08-28T16:01:13+00:00 August 28th, 2017|Categories: Ahmad Faraz, Ahmad Faraz Ghazal, famous ghazal|Tags: , , |1 Comment

چلے تھے یار بڑے زعم میں ہوا کی طرح

غزل چلے تھے  یار  بڑے  زعم میں ہوا  کی  طرح پلٹ کے دیکھا تو بیٹھے ہیں نقشِ پا کی طرح مجھے وفا کی طلب ہے مگر ہر اک سے نہیں کوئی ملے مگر اس یارِ بے   وفا  کی  طرح مرے وجود کا صحرا ہے منتظر کب سے کبھی تو آ جرسِ غنچہ کی صدا

By | 2017-08-28T16:05:13+00:00 August 27th, 2017|Categories: Ahmad Faraz, Ahmad Faraz Ghazal|Tags: , |0 Comments

دولتِ درد کو دنیا سے چھپا کر رکھنا

غزل دولتِ درد کو دنی ا سے  چھپا کر  رکھنا آنکھ میں بوند نہ ہو دل میں سمندر رکھنا کل گئے گزرے زمانوں کا خیال آئے گا آج اتنا  بھی نہ  راتوں کو  منور  رکھنا اپنی  آشفتہ  مزاجی  پہ  ہنسی  آتی  ہے دشمنی سنگ سے اور کانچ کا پیکر رکھنا آس کب دل کو نہیں

By | 2017-08-27T14:22:35+00:00 August 27th, 2017|Categories: Ahmad Faraz, Ahmad Faraz Ghazal|0 Comments

میں کیوں اُداس نہیں

میں کیوں اُداس نہیں (جنگ ستمبر ۶۵ء کے موقع پر لکھی گئی) لہو لہان مرے شہر مرے یار شہید - مگر یہ کیا کہ مری آنکھ ڈبڈبائی نہیں نظر کے زخمِ جگر تک پہنچ نہیں پائے - کہ مجھ کو منزل اظہار تک رسائی نہیں میں کیا کہوں کہ پشاور سے چاٹگام تلک - مرے

By | 2017-08-21T13:10:41+00:00 August 21st, 2017|Categories: Ahmad Faraz, Ahmad Faraz Nazam|Tags: , |0 Comments

آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا

آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا اتنا مایوس نہ ہو خلوتِ غم سے اپنی تو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اُچھالا دے دوں میں نہیں کوئی تو ساحل پہ اُتر جائے گا زندگی

By | 2017-08-21T13:12:19+00:00 August 21st, 2017|Categories: Ahmad Faraz, Ahmad Faraz Ghazal|Tags: |0 Comments

تیرے قریب آ کے بڑی الجھنوں میں ہوں

تیرے قریب آ کے بڑی الجھنوں میں ہوں میں دشمنوں میں ہوں کر ترے دوستوں میں ہوں مجھ سے گریز پا ہے تو ہر راستہ بدل میں سنگِ راہ ہوں تو سبھی راستوں میں ہوں تو آ چکا ہے سطح پہ کب سے خبر نہیں بے درد میں ابھی انہیں گہرائیوں میں ہوں اے یارِ

By | 2017-08-21T13:13:59+00:00 August 21st, 2017|Categories: Ahmad Faraz, Ahmad Faraz Ghazal|Tags: |0 Comments

عجیب رُت تھی کہ ہر چند پاس تھا وہ بھی

عجیب رُت تھی کہ ہر چند پاس تھا وہ بھی بہت مُلول تھا میں بھی اُداس تھا وہ بھی کسی کے شہر میں کی گفتگو ہواؤں سے یہ سوچ کر کہ کہیں آس پاس تھا وہ بھی ہم اپنے زعم میں خوش تھے کہ اُس کو بُھول چکے مگر گمان تھا یہ بھی قیاس تھا

By | 2017-08-21T13:15:49+00:00 August 21st, 2017|Categories: Ahmad Faraz, Ahmad Faraz Ghazal|Tags: |0 Comments

ہُوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تُو

ہُوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تُو کہاں گیا ہے مرے شہر کے مسافر تو مری مثال کی اک نخلِ خشکِ صحرا ہوں ترا خیال کہ شاخِ چمن کا طائر تُو میں جانتا ہوں کہ دنیا تجھے بدل دے گی میں مانتا ہوں کہ ایسا نہیں بظاہر تُو ہنسی خوشی سے بچھڑ

By | 2017-08-21T13:17:07+00:00 August 21st, 2017|Categories: Ahmad Faraz, Ahmad Faraz Ghazal|Tags: |0 Comments