You are here:-admin

About admin

Site data has been completely managed by admin

اک عمر کے بعد تم ملے ہو

اک عمر کے بعد تم ملے ہو اے میرے وطن کے خوش نواؤ ہر ہجر کا دن تھا حشر کا دن دوزخ تھے فراق کے الاؤ روؤں کہ ہنسوں سمجھ نہ آئے ہاتھوں میں ہیں پھول دل میں گھاؤ تم آئے تو ساتھ ہی تمہارے بچھڑے ہوئے یار یاد آئے اک زخم پہ تم نے

By | 2017-07-30T03:20:32+00:00 March 25th, 2017|Categories: Ahmad Faraz, Ahmad Faraz Nazam|Tags: |0 Comments

اب مرے دوسرے بازو پہ وہ شمشیر ہے جو

اب مرے دوسرے بازو پہ وہ شمشیر ہے جو اس سے پہلے بھی مرا نصف بدن کاٹ چکی اسی بندوق کی نالی ہے مری سمت کہ جو اس سے پہلے مری شہہ رگ کا لہو چاٹ چکی پھر وہی آگ در آئی ہے مری گلیوں میں پھر مرے شہر میں بارود کی بو پھیلی ہے

By | 2017-07-30T03:20:49+00:00 March 25th, 2017|Categories: Ahmad Faraz, Ahmad Faraz Nazam|Tags: |0 Comments

ہماری چاہتوں کی بزدلی تھی

ہماری چاہتوں کی بزدلی تھی ورنہ کیا ہوتا اگر یہ شوق کے مضموں وفا کے عہد نامے اور دلوں کے مرثیے اک دوسرے کے نام کر دیتے زیادہ سے زیادہ چاہتیں بد نام ہو جاتیں ہماری دوستی کی داستانیں عام ہو جاتیں تو کیا ہوتا یہ ہم جو زیست کے ہر عشق میں سچائیاں سوچیں

By | 2017-07-30T03:20:58+00:00 March 25th, 2017|Categories: Ahmad Faraz, Ahmad Faraz Nazam|Tags: |0 Comments

ابھی ہم خوبصورت ہیں

ابھی ہم خوبصورت ہیں احمد شمیم کی یاد میں ہمارے جسم اوراق خزانی ہو گئے ہیں اور ردائے زخم سے آراستہ ہیں پھر بھی دیکھو تو ہماری خوش نمائی پر کوئی حرف اور کشیدہ قامتی میں خم نہیں آیا ہمارے ہونٹ زہریلی رتوں سے کاسنی ہیں اور چہرے رتجگوں کی شعلگی سے آبنوسی ہو چکے

By | 2017-07-30T03:21:05+00:00 March 25th, 2017|Categories: Ahmad Faraz, Ahmad Faraz Nazam|Tags: |0 Comments

انکار نہ اقرار بڑی دیر سے چپ ہیں

غزل انکار نہ اقرار بڑی دیر سے چپ ہیں کیا بات ہے سرکار بڑی دیر سے چپ ہیں آسان نہ کر دی ہو کہیں موت نے مشکل روتے ہوئے بیمار بڑی دیر سے چپ ہیں اب کوئی اشارہ ہے نہ پیغام نہ آہٹ بام و در و دیوار بڑی دیر سے چپ ہیں ساقی یہ

By | 2017-07-30T03:21:20+00:00 March 24th, 2017|Categories: Ahmad Faraz, Ahmad Faraz Ghazal|Tags: , |0 Comments

اگر کسی سے مراسم بڑھانے لگتے ہیں

غزل اگر کسی سے مراسم بڑھانے لگتے ہیں ترے فراق کے دُکھ یاد آنے لگتے ہیں ہمیں ستم کا گلہ کیا، کہ یہ جہاں والے کبھی کبھی ترا دل بھی دکھانے لگتے ہیں سفینے چھوڑ کے ساحل چلے تو ہیں لیکن یہ دیکھنا ہے کہ اب کس ٹھکانے لگتے ہیں پلک جھپکتے ہی دنیا اُجاڑ

By | 2017-07-30T03:21:28+00:00 March 24th, 2017|Categories: Ahmad Faraz, Ahmad Faraz Ghazal|Tags: |0 Comments

تیری باتیں ہی سنانے آئے

غزل تیری باتیں ہی سنانے آئے دوست بھی دل ہی دکھانے آئے پھول کھلتے ہیں تو ہم سوچتے ہیں تیرے آنے کے زمانے آئے ایسی کچھ چپ سی لگی ہے جیسے ہم تجھے حال سُنانے آئے عشق تنہا ہے سرِ منزلِ غم کون یہ بوجھ اُٹھانے آئے اجنبی دوست ہمیں دیکھ کر ہم کچھ تجھے

By | 2017-07-30T03:21:34+00:00 March 24th, 2017|Categories: Ahmad Faraz, Ahmad Faraz Ghazal|Tags: |0 Comments