You are here:-, Ahmad Faraz Famous Sher, Ahmad Faraz Ghazal, famous ghazal-اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سُوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
ڈھونڈ اُجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں
غمِ دنیا بھی غمِ یار میں شامل کر لو!
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
تُو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں
آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر
کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں
اب نہ وہ ہیں نہ وہ تُو ہے نہ وہ ماضی ہے فرازؔ
جیسے دو شخص تمنّا کے سرابوں میں ملیں

By | 2017-08-21T13:37:10+00:00 August 21st, 2017|Categories: Ahmad Faraz, Ahmad Faraz Famous Sher, Ahmad Faraz Ghazal, famous ghazal|Tags: |0 Comments

About the Author:

Leave A Comment