You are here:-, Ahmad Faraz Nazam-میں کیوں اُداس نہیں

میں کیوں اُداس نہیں

میں کیوں اُداس نہیں
(جنگ ستمبر ۶۵ء کے موقع پر لکھی گئی)

لہو لہان مرے شہر مرے یار شہید – مگر یہ کیا کہ مری آنکھ ڈبڈبائی نہیں
نظر کے زخمِ جگر تک پہنچ نہیں پائے – کہ مجھ کو منزل اظہار تک رسائی نہیں
میں کیا کہوں کہ پشاور سے چاٹگام تلک – مرے دیار نہیں تھے کہ میرے بھائی نہیں
وہی ہوں میں مرا دل بھی وہی جنوں بھی وہی-کسی پہ تیر چلے جاں فگار اپنی ہو
وہ ہیرو شیما ہو وتنام ہو کہ بٹ مالو- کہیں بھی ظلم ہو آنکھ اشکبار اپنی ہو
یہی ہے فن کا تقاضا یہی مزاج مرا- متاعِ درد سبھی پر نثار اپنی ہو
نہیں کہ درد نے پتھر بنا دیا ہے مجھے-نہ یہ کہ آتشِ احساسِ سرد ہے میری
نہیں کہ خونِ جگر سے تہی ہے میرا قلم-نہ یہ کہ لوحِ وفا برگِ زرد ہے میری
گواہ ہیں میرے احباب میرے شعر ثبوت-کہ منزلِ رسن و دار گرد ہے میری
بجا کے امن کا بربط اُٹھائے آج تلک-ہمیشہ گیت محبّت کے گائے ہیں میں نے
عزیز ہے مجھے معصوم صورتوں کی ہنسی-بجا پیار کے نغمے سُنائے ہیں میں نے
چھڑک کے اپنا لہو اپنے آنسوؤں کی پھوار-ہمیشہ جنگ کے شعلے بجھائے ہیں میں نے
میں سنگدل ہوں نہ بیگانۂ وفا یارو-نہ یہ کہ میں کسی خواب زار میں کھویا
تمہیں خبر ہے کہ دل پر خراش جب بھی لگے-تو بند رہ نہیں سکتا مرا لبِ گویا
وہ مرگِ ہم نفساں پہ حزیں نہیں ہے تو کیوں-جو فاطمی و لو ممبا کی موت پر رویا
دلاورانِ وفا کیش کی شہادت پر-مرا جگر بھی لہو ہے پہ وقفِ یاس نہیں
سیالکوٹ کے مظلوم ساکنوں کے لیے-جز آفریں کے کوئی لفظ میرے پاس نہیں
میں کیسے خطّۂ لاہور کے پڑھوں نوحے-یہ شہرِ زندہ دلاں آج بھی اداس نہیں
جنوں فروغ ہے یارو عدو کی سنگ زنی-ہزار شکر کہ معیارِ عشق پست نہیں
مناؤ جشن کہ روشن ہیں مشعلیں اپنی-دریدہ سر ہیں تو کیا غم شکستہ دست نہیں
مرے وطن کی جبیں پر دمک رہا ہے جو زخم-وہ نقشِ فتح ہے داغِ غم شکست نہیں
’’گریز داز صفِ ماہر کہ مردِ غوغا نیست
کسے کہ کشتہ نہ شد از قبیلۂ مانیست‘‘
By | 2017-08-21T13:10:41+00:00 August 21st, 2017|Categories: Ahmad Faraz, Ahmad Faraz Nazam|Tags: , |0 Comments

About the Author:

Leave A Comment